پبلک اکانٹس کمیٹی کا اجلاس، محکمہ مواصلات کے آڈٹ پیراز پرغور،ریکوری کی ہدایت،اخراجات ودیگر امور سے متعلق ریکارڈ طلب

پبلک اکانٹس کمیٹی کا اجلاس، محکمہ مواصلات کے آڈٹ پیراز پرغور،ریکوری کی ہدایت،اخراجات ودیگر امور سے متعلق ریکارڈ طلب
کوئٹہ(پ ر) بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکانٹس کمیٹی کا اجلاس جمعہ کے روز کمیٹی کے چیئرمین اصغر علی ترین کی زیر صدارت بلوچستان صوبائی اسمبلی کی نئی کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی اراکین حاجی ولی محمد نورزئی، رحمت صالح بلوچ، انجینئر زمرک خان اچکزئی، فضل قادر مندوخیل، میرمحمد خان لہڑی، غلام دستگیر بادینی، ڈائریکٹر جنرل آڈٹ شجاع علی، ایڈیشنل اکانٹنٹ جنرل بلوچستان نورالحق، سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو بابر خان، اسپیشل سیکرٹری پی اے سی سراج لہڑی، ایڈیشنل سیکرٹری قانون سعید اقبال، سی اینڈبلیو کے سپرنٹنڈنگ انجینئرز، چیف انجینئرز، ایگزیکٹیو انجینئرز اور دیگر حکام شریک ہوئے۔ اجلاس میں محکمہ مواصلات و تعمیرات (Communication & Works) کے مالیاتی اور آڈٹ معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں مالی سال 2022-23 کے دوران محکمے کو ترقیاتی اور غیر ترقیاتی مد میں مختص کیے گئے 44 ارب 42 کروڑ 71 لاکھ روپے سے زائد فنڈز اور ان میں سے 41 ارب 18 کروڑ روپے سے زائد کے اخراجات کا جائزہ لیا گیا۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق محکمے نے مجموعی طور پر 3 ارب 24 کروڑ روپے سے زائد کی رقم بروقت استعمال نہیں کی، جو کہ لیپس ہوئے جس پر کمیٹی اراکین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی مالی سال میں مختص فنڈز استعمال نہیں ہو سکتے تو انہیں بروقت سرنڈر کیا جانا چاہیے تاکہ یہ رقم دیگر ضروری ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کی جا سکے اور عوامی وسائل ضائع ہونے سے بچائے جا سکیں۔چیئرمین کمیٹی اصغر علی ترین نے محکمہ میں جاری منصوبوں کے لیے پروجیکٹ ڈائریکٹرز (PDs) کی تعیناتی کے نظام پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی اس نظام کے حق میں نہیں ہے۔ پبلک اکائونٹس کمیٹی نے اس حوالے سے ہدایت کی کہ پروجیکٹ ڈائریکٹرز کے تحت جاری تمام منصوبوں کی تفصیلی رپورٹس کمیٹی کے سامنے پیش کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ جب متعلقہ محکمہ پہلے سے موجود ہے تو منصوبوں کی تکمیل کے لیے علیحدہ پروجیکٹ ڈائریکٹرز کی ضرورت اور جواز واضح ہونا چاہیے۔اس موقع پر رکن کمیٹی محمد خان لہڑی نے کہا کہ جب محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات اور محکمہ مواصلات و تعمیرات کے ذریعے منصوبے شروع کیے جاتے ہیں تو ان کی ذمہ داری متعلقہ محکمے کو سونپی جانی چاہیے اور منصوبوں پر عمل درآمد بھی اسی محکمے کے ذریعے ہونا چاہیے، نہ کہ غیر ضروری طور پر علیحدہ پروجیکٹ ڈائریکٹرز تعینات کیے جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بعض منصوبے مکمل نہ ہونے کی صورت میں بالآخر متعلقہ محکمے ہی کے حوالے کر دیے جاتے ہیں، جس سے اس نظام کی افادیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔ پی اے سی نے نصیر آباد، نوشکی، ژوب و دیگر اضلاع کے مختلف پروجیکٹس سمیت کچھی PLAIN پلین واٹر سپلائی اسکیم ، بلوچستان ذرائع معاش اور انٹرپرینیورشپ پروجیکٹ (BLEP) کی اسپیشل آڈٹ کا حکم دیا۔ کمیٹی اراکین نے نشاندہی کی کہ پروجیکٹ ڈائریکٹرز کی تعیناتی کے بعد سرکاری گاڑیوں کی خریداری، بھاری تنخواہوں اور اضافی عملے کی تقرریوں کی صورت میں سرکاری خزانے پر مزید بوجھ پڑتا ہے۔ بعض منصوبوں میں پروجیکٹ ڈائریکٹرز کو مناسب عملے کے بغیر تعینات کیا جاتا ہے اور بعد ازاں اپنی سطح پر عملہ بھرتی کیا جاتا ہے، جس سے غیر ضروری اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے۔ کمیٹی نے اس حوالے سے جامع تفصیلات طلب کر لیں۔اجلاس میں مالی سال 2023-24 کی آڈٹ رپورٹ کا جائزہ لیتے ہوئے مختلف تعمیراتی منصوبوں میں ادائیگیوں کے دوران سنگین مالی بے ضابطگیوں اور زائد ادائیگیوں کے معاملات زیر بحث آئے۔آڈٹ پیرا 4.2.1 کے مطابق مختلف بلڈنگ ڈویژنز میں مالی سال 2021-22 اور 2022-23 کے دوران ٹھیکیداروں کو مقررہ اور منظور شدہ نرخوں سے زائد ادائیگیوں اور مقدار کے حساب میں غلطیوں کے باعث 9 کروڑ 3 لاکھ 41 ہزار روپے کی زائد ادائیگی کی نشاندہی کی گئی۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق اس معاملے پر متعلقہ دفاتر کو ریکوری اور ضروری ریکارڈ آڈٹ کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی گئی تھی، تاہم رپورٹ کی حتمی تکمیل تک پیش رفت سے آگاہ نہیں کیا گیا۔کمیٹی نے اس معاملے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ محکمے کو ہدایت کی کہ زائد ادائیگیوں کی مکمل تفصیلات، ضروری ریکارڈ اور ریکوری کی صورت حل پیش کی جائے اور سرکاری خزانے کو پہنچنے والے نقصان کی 100 فیصد وصولی یقینی بنائی جائے۔ اجلاس میں ضلع شیرانی سمیت مختلف اضلاع کے تعمیراتی منصوبوں میں آڈٹ اعتراضات اور ان پر عمل درآمد نہ ہونے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔اسی طرح آڈٹ پیرا 4.2.2 کے تحت مختلف بلڈنگ ڈویژنز میں منظور شدہ پی سی ون، تخمینہ جات اور معاہدوں میں درج مقدار سے زائد تعمیراتی کاموں کی ادائیگیوں کے باعث 4 کروڑ 4 لاکھ 14 ہزار روپے کی بے ضابطگی کی نشاندہی کی گئی۔ کمیٹی نے اس آڈٹ پیرا پر متعلقہ حکام کو دس روز کے اندر 100 فیصد ریکوری یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی۔اجلاس کے دوران کمیٹی نے واضح کیا کہ سرکاری ترقیاتی منصوبوں میں منظور شدہ نرخوں، مقدار اور معاہدوں کی پابندی ہر صورت یقینی بنائی جائے، جبکہ سرکاری خزانے سے ہونے والی ہر ادائیگی کا مکمل ریکارڈ اور شفافیت برقرار رکھی جائے۔ کمیٹی نے آڈٹ اعتراضات پر بروقت عمل درآمد اور ذمہ داران سے رقوم کی وصولی کو ناگزیر قرار دیا۔محکمہ کی جانب سے دیگر آڈٹ پیراز کے حوالے سے مکمل تیاری اور مطلوبہ ریکارڈ پیش نہ کیے جانے کے باعث ان پر مزید کارروائی مخر کر دی گئی۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ باقی ماندہ آڈٹ پیراز کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس 30 نومبر کو صبح دس بجے منعقد کیا جائے گا۔

Comments 0

Sort by:

Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].

Login to post a comment.