کوئٹہ (دی باغوان)بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے مرکزی سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ کراچی میں پارٹی سربراہ سردار اختر جان مینگل کی رہائش گاہ پر مبینہ طور پر چھاپہ مار کر گھریلو ملازمین سمیت تقریباً 13 افراد کو حراست میں لیا گیا، جس کی بی این پی شدید مذمت کرتی ہے۔
کوئٹہ میں دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا کہ سردار اختر جان مینگل کی کراچی میں واقع رہائش گاہ پر صبح سویرے سادہ لباس میں ملبوس افراد نے بغیر وارنٹ اور پیشگی اطلاع کے کارروائی کی۔ ان کے مطابق چھاپے کے وقت رہائش گاہ میں ڈرائیور، خانساماں اور دیگر ملازمین موجود تھے جنہیں حراست میں لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ کارروائیاں سردار اختر مینگل کے سیاسی مؤقف اور بلوچستان کے عوام کے حقوق کے لیے ان کی جدوجہد کے باعث کی جا رہی ہیں۔ کارروائی کا مقصد ایک توانا سیاسی آواز کو دبانا ہے، تاہم بی این پی جمہوری، آئینی اور سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی۔
ساجد ترین کا کہنا تھا کہ بلوچستان کو وفاق کی اکائی کے بجائے ہمیشہ کالونی کی طرح سمجھا گیا، جبکہ بی این پی نے ہمیشہ بلوچستان کے عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد کی ہے۔ سندھ کی سرزمین پر سردار اختر مینگل کی رہائش گاہ پر اس نوعیت کی کارروائی انتہائی افسوسناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی این پی جمہوریت، آئین اور قانون کی بالادستی پر مکمل یقین رکھتی ہے، لیکن بلوچستان کے مسائل حل کرنے کے بجائے ایسے اقدامات سے حالات کو مزید خراب کیا جا رہا ہے۔
مرکزی سینئر نائب صدر بی این پی نے کہا کہ مذکورہ کارروائی نے ثابت کردیا ہے کہ پیپلز پارٹی بھی جمہوری روایات اور اصولوں کی پاسداری میں ناکام رہی ہے۔ سندھ حکومت سردار اختر مینگل کی رہائش گاہ پر مبینہ چھاپے کے واقعے پر اپنی پوزیشن واضح کرے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ سیاسی کارکنوں اور رہائشی ملازمین کی گرفتاریوں کا نوٹس لیا جائے، بصورت دیگر بی این پی احتجاج اور مظاہروں کا راستہ اختیار کرے گی۔
ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا کہ جمہوری آوازوں کو دبانے کی ہر کوشش کی سیاسی اور آئینی سطح پر مزاحمت کی جائے گی۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].