چلو اس بار کچھ اُلٹ کر کے دیکھتے ہیں

چلو اس بار کچھ اُلٹ کر کے دیکھتے ہیں
وزیر داخلہ محسن نقوی صاحب کا بیان سنا کہ سسٹم نہیں چل رہا تو ذہن میں کچھ بات اہی تو سوچا اپ کے ساتھ شیئر کر دیتا ہوں ۔ جہاں تک میں نے سنا ہے ہر ملک میں تھنک ٹینک ہوتے ہیں جو سارے ملک کے سسٹم کے انچارج ہوتے ہیں تو پاکستان میں بھی کوئی تینک ٹینک ہوں گے تو میں انہیں ایک مشورہ دینا چاہتا ہوں بچپن سے لے کر اب تک یہی سنا ہے کہ جیسے عوام ویسے حکمران کھبی یہ نہیں سنا کہ جیسے حکمران ویسے عوام چلو اس بار کچھ اُلٹ کر کے دیکھتے ہیں چند لوگوں کو لٹکا کر دیکھتے ہیں ۔ چلو اس بار کچھ بدل کر کے دیکھتے ہیں۔ چھوڑو نواز کو، شہباز کو، زرداری کو، بلاول کو، مریم کو، عمران کو، فضل الرحمان کو، تو چلیں اس بار ہم نظام کو نیچے سے دیکھتے ہیں اور ٹھیک کر کے دیکھتے ہیں۔ اس بار ہم خود سے شروع کرتے ہیں۔ وہ ریڑھی والا جو 5 کلو سبزی اور پھل میں آدھے گلے سڑے ڈال دیتا ہے۔ کبھی اسے لٹکا کر دیکھتے ہیں۔ وہ تندور والا جو روٹی کا وزن کم کر دیتا ہے کبھی اسے اسی تندور میں ڈال کر دیکھتے ہیں ۔ وہ دودھ والا جو دودھ میں کیمیکل ملاتا ہے کبھی اسے وہی ملاوٹ والا دودھ پلا کر دیکھتے ہیں وہ قصاب جو سرکاری مقررہ نرغ پہ گوشت فروخت نہیں کرتا اور انتظامیہ اور تھانے والے کو ایک کلو روزانہ کے حساب سے گوشت دیتا ہے ان سب کو لٹکا کر دیکھتے ہیں وہ راشی آفیسر جو بغیر رشوت کے فائل نہیں چلاتا کبھی اسے لٹکا کر دیکھتے ہیں وہ XEN، SDO، منسٹر جو ٹھیکے میں 30-40 فیصد کمیشن اپنا حق سمجھ کر کھاتا ہے میرے ایک دوست نے کہا کہ ہمارا فلاں دوست کہ رہا تھا کہ فلاں بندہ اس کا قرض دار ہے کروڑ روپے میں نے کہا اس نے قرض دیا ہے اس نے کہا نہیں جو ٹھیکہ اس نے دیا تھا اس کے کمیشن کے پیسے ہیں ۔ کبھی اسے لٹکا کر دیکھتے ہیں۔ زمین پر قبضہ کرنے والے کو اسی زمین میں دفنا کر دیکھتے ہیں ۔ بس ہر شہر میں تین چار بندے چاہیے۔ ایک رشوت خور لٹک جائے، ایک ملاوٹ خور لٹک جائے۔ زمین پر قبضہ کرنے والا لٹک جائے ذخیرہ اندوز لٹک جائے جادو ٹونا کرنے والے کو لٹکا دیا جائے ۔ باقیوں کو خود بخود عقل آ جائے گی نہیں آئی تو ان کو بھی لٹکا کر دیکھ لیں گے وہ ڈاکٹر جو ڈیوٹی کے وقت غائب ہوتا ہے۔ وہ وکیل جو کیس کو سالوں لٹکاتا ہے۔ وہ جج صاحب جو 72 سال بعد فیصلہ دیتے ہیں کہ "بیٹی کا باپ کی جائیداد میں حق ہے اس جج سے سوال کرتے ہیں قرآن نے یہ بات 1454 سال پہلے بتا دیا تھا پھر ہمیں 79 سال کیوں لگے کہ یہ ڈیسایڈ کرنے میں کہ باپ کی جائیداد میں بیٹی کا حق ہے۔ ایک اور بات یاد آئی کچھ عرصہ پہلے نیوز نظر سے گزری کسی غریب کی زمین انتظامیہ نے واگزار کراہی قبضہ گر نے کورٹ سے رجوع کیا تو کورٹ نے کہا یہ کام انتظامیہ کا نہیں ہے یہ ہم ڈیسایڈ کریں گے ۔ وہ ٹریفک پولیس والا جس کا زور صرف غریب موٹر سائیکل والے پر چلتا ہے۔ میں نے ایک ٹریفک والے سے کہا 2000 کا چالان بہت زیادہ ہے غریب کے لیے تو اس نے کہا کے یہ آپ کے اسمبلی میں بیٹھے ہوئے ممبران نے ایک صفر بڑھا دیا ہے یعنی جو چالان 100 وہ ہزار ہو گیا 200 کو اوپر والوں نے ایک صفر بڑھا کر 2000 کر دیا جس ملک میں ایک غریب دن کا 100 روپے کا پٹرول ڈلواتا ہے، اسے 2000 کا چالان تھما دیا جاتا ہے۔ اور وہ بسیں جو کوئٹہ سے کراچی، اسلام آباد، لاہور جاتی ہیں۔ ڈرائیور سگریٹ پی رہا ہے، موبائل استعمال کر رہا ہے۔ ہر سال ہزاروں لوگ بے گناہ مر رہے ہیں۔ کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں پاکستان کا مسئلہ صرف ایوانوں میں نہیں ہے۔ مسئلہ ہماری گلی میں ہے، بازار میں ہے، ہسپتال میں ہے، کچہری میں ہے، سڑک پر ہے۔ ہم جب کینٹ میں ہوتے ہیں تو قانون مانتے ہیں۔ جب دبئی یا کسی اور ملک جاتے ہیں تو نسوار اور پان دیوار پر نہیں تھوکتے، لائن نہیں توڑتے ۔ اداکار عمر شریف نے ایک اسٹیج پروگرام میں ٹھیک کہا تھا: "کراچی ایئرپورٹ پر اترا تو دل کیا زمین پر تھوکو، بہت عرصے سے نہیں تھوکا تھا وہاں پان اور نسوار کھا کر بھی نہیں تھوکتے، یہاں تھوک دیتے ہیں۔ ہم وہی لوگ ہیں، بس نظام بدلتے ہی ہمارا رویہ بدل جاتا ہے۔ مجھے نہیں پتہ پاکستان کے تھنک ٹینکس کون ہیں، کہاں ہیں۔ چلو اس بار کچھ اُلٹ کر کے دیکھتے ہیں۔ چلو اس بار کچھ بدل کر کے دیکھتے ہیں اگر کوئی بات کسی کو بری لگی ہو تو معذرت خواہ ہوں۔

Comments 0

Sort by:

Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].

Login to post a comment.