وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے خلاف بے بنیاد الزامات اور سوشل میڈیا مہم

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے خلاف بے بنیاد الزامات اور سوشل میڈیا مہم
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے خلاف گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر منفی پروپیگنڈے اور غیر مصدقہ اطلاعات کی تشہیر کا سلسلہ جاری ہے۔ اس حوالے سے مختلف نوعیت کے الزامات اور دعوے سامنے آئے ہیں، جن کا مقصد بظاہر وزیراعلیٰ بلوچستان کی سیاسی ساکھ اور عوامی اعتماد کو متاثر کرنا ہے۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی سے منسوب اطلاعات کے مطابق اس مہم میں بعض جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے استعمال کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے، جو اس تمام صورتحال کی شفاف تحقیقات کی ضرورت کو مزید اہم بناتا ہے۔سیاسی اختلاف رائے جمہوری نظام کا بنیادی تقاضا ہے اور حکومت کی پالیسیوں، فیصلوں اور کارکردگی پر تنقید ہر شہری کا حق ہے، تاہم غیر مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر الزامات عائد کرنا اور سوشل میڈیا کے ذریعے کسی شخصیت کی کردار کشی کرنا ذمہ دارانہ طرز عمل نہیں۔ بالخصوص بلوچستان جیسے اہم اور حساس صوبے میں سیاسی استحکام، امن و امان اور ترقیاتی عمل کے تسلسل کے لیے ضروری ہے کہ قومی اور صوبائی معاملات کو سنجیدگی اور حقائق کی بنیاد پر دیکھا جائے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اپنے دورِ حکومت میں انتظامی اصلاحات، میرٹ کے فروغ، عوامی خدمات کی بہتری اور ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد کے حوالے سے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ان کی حکومت نے سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے اور عوامی وسائل کے شفاف استعمال کو یقینی بنانے کے لیے مختلف شعبوں میں اصلاحاتی اقدامات متعارف کرائے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف ان کا واضح مؤقف بھی قومی سطح پر زیر بحث رہا ہے اور انہوں نے مختلف آئینی، سیاسی اور قومی فورمز پر بلوچستان کا مقدمہ پیش کیا ہے۔ گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر وزیراعلیٰ ہاؤس میں بعض اہلکاروں کی مبینہ آمد، وہاں کئی گھنٹوں تک قیام اور اہم سرکاری دستاویزات، لیپ ٹاپ اور پی ایس ڈی پی کی فائلیں تحویل میں لینے سے متعلق اطلاعات گردش کرتی رہیں۔ دوسری جانب وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے کوئٹہ پریس کلب میں صحافیوں سے گفتگو میں ان الزامات کو من گھڑت اور حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے ان اطلاعات کو مسترد کردیا ہے اس لئے محض سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات کو حقائق کا درجہ نہیں دیا جاسکتا۔حکومت بلوچستان کی جانب سے سرکاری ملازمتوں میں میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے تمام محکموں کے سیکرٹریز کو واضح ہدایات جاری کیں کہ سرکاری بھرتیوں میں کسی قسم کی سیاسی مداخلت، ذاتی پسند و ناپسند یا سفارش کو قبول نہ کیا جائے اور تقرریوں کا عمل مقررہ قواعد و ضوابط اور میرٹ کے مطابق مکمل کیا جائے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو مساوی مواقع فراہم کرنا اور سرکاری اداروں میں شفاف بھرتیوں کے نظام کو مستحکم بنانا ہے۔بلوچستان کو اس وقت تعلیم، صحت، روزگار، بنیادی ڈھانچے، امن و امان اور انتظامی بہتری جیسے اہم شعبوں میں مسلسل توجہ اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ایسے حالات میں سیاسی اختلافات کو ذاتی الزامات اور غیر مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر آگے بڑھانے کے بجائے حکومتی کارکردگی کو ٹھوس حقائق، پالیسی اقدامات اور عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات کی بنیاد پر جانچنا زیادہ مناسب ہوگا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی حکومت کی کارکردگی پر تنقید اور حکومتی فیصلوں سے اختلاف کا حق ہر سیاسی جماعت، شہری اور متعلقہ حلقے کو حاصل ہے، تاہم کسی بھی الزام کو بغیر تصدیق حقیقت کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔ ضروری ہے کہ سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دیا جائے، غیر مصدقہ اطلاعات کی تشہیر سے گریز کیا جائے اور ہر معاملے میں شواہد، قانونی تقاضوں اور حقائق کو بنیادی اہمیت دی جائے۔ بلوچستان کی ترقی، اداروں کے استحکام اور عوامی مفادات کا تحفظ تمام سیاسی و سماجی حلقوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

Comments 0

Sort by:

Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].

Login to post a comment.