بلوچستان کی سیاسی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہیں جنہوں نے اقتدار، عہدوں اور سیاسی مفادات سے بڑھ کر عوامی حقوق، جمہوری اقدار اور صوبے کے اجتماعی مفادات کو اپنی سیاست کا محور بنایاڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا شمار بھی ایسی سیاسی شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی طویل سیاسی جدوجہد کے دوران بلوچستان کے مسائل کو قومی سطح پر اجاگر کرنے، عوام کے احساسِ محرومی کو کم کرنے اور صوبے کو قومی دھارے میں اس کا جائز مقام دلانے کے لیے سیاسی و جمہوری جدوجہد کی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی شخصیت کا نمایاں پہلو ان کی سنجیدگی، سیاسی بصیرت، معاملہ فہمی اور دلیل کے ساتھ اپنا مؤقف پیش کرنے کا انداز ہے وہ بلوچستان کی سیاست میں ایک ایسے رہنما کے طور پر پہچانے جاتے ہیں جنہوں نے سیاسی مکالمے، آئینی جدوجہد اور جمہوری عمل کو مسائل کے حل کا اہم ذریعہ قرار دیا ان کی سیاسی سوچ کا بنیادی محور بلوچستان کے عوام کے حقوق، صوبائی خودمختاری، تعلیم، صحت، روزگار اور قومی وسائل میں منصفانہ حصہ رہا ہے۔
نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان کی حیثیت سے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا سیاسی کردار صوبے کی پارلیمانی سیاست میں اہمیت رکھتا ہے۔ 2013ء سے 2015ء تک وزارتِ اعلیٰ کے منصب پر فائز رہنے کے بعد بھی انہوں نے بلوچستان کے سیاسی اور قومی معاملات پر اپنا مؤقف پیش کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہےان کی سیاست کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ وہ بلوچستان کے پیچیدہ مسائل کو طاقت کے بجائے سیاسی مکالمے، مذاکرات اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے حل کرنے پر زور دیتے رہے ہیں۔بلوچستان کا ایک بڑا مسئلہ صرف پسماندگی نہیں بلکہ مواقع کی غیر مساوی تقسیم بھی ہے۔ صوبے کے ہزاروں نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود مناسب روزگار سے محروم ہیں۔ بالخصوص وفاقی محکموں میں بلوچستان کے مختص کردہ ملازمتوں کے کوٹے پر طویل عرصے تک مؤثر عملدرآمد نہ ہونا ایک ایسا مسئلہ رہا ہے جس نے نوجوانوں میں احساسِ محرومی کو مزید بڑھایا۔ایسے حالات میں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی جانب سے وزیراعظم میاں شہباز شریف کے سامنے بلوچستان کے وفاقی ملازمتوں کے کوٹے پر عملدرآمد کا معاملہ اٹھانا ایک اہم پیش رفت ہے ان کی تجویز پر وفاقی حکومت کی جانب سے اس معاملے پر پیش رفت شروع ہوئی اور مختلف وفاقی محکموں میں بلوچستان کے حصے کی تقریباً 30000 آسامیوں پر عملدرآمد شروع ہوچکا ہے اور اب تک مختلف محکموں میں 4500آسامیوں کے اشتہارات جاری کیے جانے کی اطلاع سامنے آئی۔یہ معاملہ محض چند ہزار ملازمتوں کا نہیں بلکہ بلوچستان کے نوجوانوں کو قومی اداروں میں نمائندگی دینے، ان کی صلاحیتوں کو تسلیم کرنے اور انہیں معاشی و سماجی ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرنے کا ہے۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی اس تجویز کی اہمیت اس پہلو سے بھی بڑھ جاتی ہے کہ انہوں نے بلوچستان کے ایک دیرینہ عوامی مسئلے کو وفاقی حکومت کی توجہ کا مرکز بنایا۔تاہم اس پیش رفت کی اصل کامیابی اسی وقت ممکن ہوگی جب ان آسامیوں پر شفاف اور میرٹ کے مطابق بھرتیاں مکمل ہوں بلوچستان کے مختص کردہ کوٹے کا مکمل تحفظ کیا جائے اور کسی قسم کی انتظامی رکاوٹ یا غیر ضروری تاخیر کو برداشت نہ کیا جائے۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ کوٹے پر عملدرآمد کو وقتی اقدام کے بجائے مستقل انتظامی پالیسی بنائے تاکہ آنے والی نسلوں کو بھی ان کے جائز حقوق حاصل رہیں۔وفاقی ملازمتوں کے کوٹے سمیت ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی جانب سے وفاقی حکومت کے سامنے بلوچستان کے حوالے سے 17 نکات پیش کرنا بھی ایک اہم سیاسی پیش رفت ہے۔ ان نکات میں صوبے کے بنیادی سیاسی، آئینی، معاشی اور انسانی مسائل کو اجاگر کیا گیا ہے۔
ان مطالبات کو محض ایک سیاسی جماعت یا رہنما کا مؤقف سمجھنے کے بجائے بلوچستان کے دیرینہ تحفظات اور عوامی مسائل کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے پیش کردہ نکات میں بلوچستان کے عوام کا حقِ حاکمیت، حقِ رائے دہی، ساحل اور قدرتی وسائل پر حقِ ملکیت، نوجوانوں کے لیے روزگار، لاپتہ افراد کا مسئلہ، گرفتار سیاسی کارکنوں کی رہائی، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کی رہائی، مسخ شدہ لاشوں کے واقعات کا خاتمہ، طاقت کے استعمال سے گریز، بارڈر ٹریڈ کی بحالی اور آسانی، سمندری وسائل پر عوام کے حقوق، آئین پاکستان اور اٹھارویں ترمیم پر مکمل عملدرآمد، طلبہ کے لیے اسکالرشپس، وفاقی اداروں میں بلوچستان کی مناسب نمائندگی، اشتعال انگیز بیانات سے گریز، جمہوری و مفاہمتی رویوں کا فروغ اور نئے صوبے بنانے کی بات سے گریز شامل ہیں۔یہ نکات دراصل بلوچستان کے عوام کے ان مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں جن کا حل صوبے میں سیاسی اعتماد کی بحالی، معاشی ترقی اور پائیدار امن کے لیے ضروری ہے۔ جمہوریت کی بنیادی شرط بلوچستان کے عوام کا بنیادی مطالبہ ہے کہ انہیں اپنے صوبے کے سیاسی، معاشی اور انتظامی معاملات میں حقیقی اختیار حاصل ہو۔ عوام کی رائے کا احترام، آزادانہ اور شفاف انتخابات، ووٹ کی حرمت اور منتخب نمائندوں کے مینڈیٹ کو تسلیم کرنا جمہوری نظام کی بنیادی شرائط ہیں۔اگر عوام کو یہ احساس ہو کہ ان کے ووٹ، رائے اور سیاسی فیصلوں کی حقیقی اہمیت ہے تو ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط ہوسکتا ہے۔ بلوچستان میں سیاسی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ عوام کے حقِ حاکمیت اور حقِ رائے دہی کو عملی طور پر تسلیم کیا جائے۔بلوچستان قدرتی وسائل، معدنیات، ساحلی پٹی اور جغرافیائی اہمیت کے اعتبار سے ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ گوادر کی بندرگاہ، طویل ساحلی پٹی، معدنی ذخائر اور سمندری وسائل صوبے کی معاشی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرسکتے ہیں۔لیکن بلوچستان کے عوام کا دیرینہ سوال یہ ہے کہ ان وسائل سے حاصل ہونے والے فوائد میں مقامی آبادی کا حصہ کتنا ہے؟ ترقیاتی منصوبوں کے نتیجے میں مقامی لوگوں کو روزگار، کاروبار، تعلیم اور بنیادی سہولیات کے کتنے مواقع مل رہے ہیں؟ضرورت اس امر کی ہے کہ ساحل اور قدرتی وسائل کے حوالے سے آئینی حقوق کا احترام کیا جائے، مقامی آبادی کو فیصلہ سازی میں مؤثر نمائندگی دی جائے اور وسائل سے حاصل ہونے والے فوائد میں بلوچستان کے عوام کا جائز حصہ یقینی بنایا جائے۔ ترقی کا کوئی بھی منصوبہ اس وقت تک حقیقی معنوں میں کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک اس کے ثمرات مقامی لوگوں تک نہ پہنچیں۔بلوچستان کا سب سے حساس اور تکلیف دہ مسئلہ لاپتہ افراد کا ہے۔ اس مسئلے نے ہزاروں خاندانوں کو شدید ذہنی، سماجی اور معاشی مشکلات سے دوچار کیا ہے۔ کسی بھی شہری کے اہل خانہ کو اپنے پیاروں کے بارے میں غیر یقینی کیفیت میں زندگی گزارنے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے۔ضرورت ہے کہ لاپتہ افراد کے تمام معاملات کو انسانی ہمدردی، قانون اور آئین کے مطابق فوری طور پر حل کیا جائے۔ اگر کسی شخص پر کوئی الزام ہے تو اسے قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے اور قانونی کارروائی کی جائے۔ اسی طرح گرفتار سیاسی کارکنوں کے مقدمات کا شفاف جائزہ لیا جائے اور جو افراد کسی قانونی جواز کے بغیر زیرِ حراست ہیں انہیں رہا کیا جائے۔ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ بھی اسی سیاسی اور انسانی حقوق کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ اس معاملے کو قانون، شفافیت اور بنیادی حقوق کے اصولوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔اسی طرح مسخ شدہ لاشوں کے واقعات کا مکمل خاتمہ، ان کی غیر جانب دارانہ تحقیقات اور ذمہ داروں کا قانون کے مطابق احتساب ناگزیر ہے۔ انسانی جان، عزت اور وقار کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔بلوچستان کے حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ تمام مسائل کو طاقت کے بجائے سیاسی مکالمے، مذاکرات اور جمہوری عمل کے ذریعے حل کیا جائے۔ اختلافِ رائے کو جمہوری معاشرے کا فطری حصہ سمجھنا چاہیے۔ سیاسی کارکنوں، طلبہ، دانشوروں اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنی رائے کے اظہار کا آئینی حق حاصل ہونا چاہیے۔طاقت کا استعمال، اشتعال انگیز بیانات اور ایک دوسرے کے خلاف عدم برداشت کے رویے مسائل کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ اس کے برعکس سیاسی برداشت، مثبت رویے اور مفاہمت اعتماد کی بحالی میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔وفاقی حکومت اور بلوچستان کی سیاسی قیادت کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کے مؤقف کو سنیں اور ایسا ماحول پیدا کریں جہاں اختلافات کا حل مذاکرات کی میز پر تلاش کیا جاسکے۔ بلوچستان میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی اختلاف کو دشمنی تصور کرنے کے بجائے جمہوری حق تسلیم کیا جائے۔بلوچستان کے نوجوانوں کا سب سے بڑا مسئلہ بے روزگاری اور مواقع کی عدم دستیابی ہے۔ صوبے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے ہزاروں نوجوان اپنی صلاحیتوں کے باوجود مناسب روزگار سے محروم ہیں۔وفاقی ملازمتوں کے کوٹے پر پیش رفت کے ساتھ ساتھ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے مزید روزگار کے مواقع پیدا کرے، وفاقی اداروں میں صوبے کی مناسب نمائندگی یقینی بنائے اور اعلیٰ تعلیم کے لیے زیادہ سے زیادہ اسکالرشپس فراہم کرے۔طلبہ کو ملک کی معروف جامعات اور پیشہ ورانہ اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ فنی تربیت، جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور ہنرمندی کے پروگرام شروع کیے جائیں تاکہ بلوچستان کے نوجوان قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرسکیں۔بلوچستان کی ترقی کا حقیقی راستہ تعلیم یافتہ اور باصلاحیت نوجوانوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ان کے مستقبل کو سیاسی ترجیحات میں مرکزی حیثیت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔بلوچستان کی معیشت میں سرحدی تجارت اور مقامی کاروبار کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ صوبے کے سرحدی علاقوں میں ہزاروں خاندانوں کا روزگار بارڈر ٹریڈ سے وابستہ ہے۔ تجارت میں غیر ضروری رکاوٹیں اور پابندیاں براہِ راست عام شہریوں کی زندگیوں کو متاثر کرتی ہیں۔
ضرورت ہے کہ بارڈر ٹریڈ کو قانونی، منظم اور آسان بنایا جائے تاکہ مقامی آبادی کے روزگار کا تحفظ ہو، کاروباری سرگرمیاں فروغ پائیں اور سرحدی علاقوں میں معاشی استحکام پیدا ہو۔ حکومت کو چاہیے کہ سکیورٹی اور معاشی ضروریات میں توازن پیدا کرتے ہوئے مقامی تاجروں اور عوام کو سہولت فراہم کرے۔
آئینِ پاکستان اور اٹھارویں ترمیم پر مکمل عملدرآمد
پاکستان کا آئین تمام شہریوں اور وفاقی اکائیوں کے حقوق کا ضامن ہے۔ اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبائی خودمختاری کے حوالے سے جو آئینی پیش رفت ہوئی، اس پر مکمل عملدرآمد وقت کی اہم ضرورت ہے۔بلوچستان کے عوام چاہتے ہیں کہ صوبے کو آئین کے مطابق اختیارات حاصل ہوں، وفاقی اداروں میں مناسب نمائندگی دی جائے اور قومی وسائل کی تقسیم میں انصاف کے اصولوں کو ملحوظ رکھا جائے۔وفاق کی مضبوطی اسی میں ہے کہ اس کی تمام اکائیوں کو ان کے حقوق اور اختیارات حاصل ہوں۔ بلوچستان کو اس کا آئینی اور قانونی حصہ فراہم کرنا محض ایک سیاسی مطالبہ نہیں بلکہ مضبوط وفاق کی بنیادی ضرورت ہے۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے پیش کردہ نکات میں نئے صوبے بنانے کی بات سے گریز کا مطالبہ بھی شامل ہے۔ اس مطالبے کو بلوچستان کے موجودہ سیاسی، انتظامی اور معاشی مسائل کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔بلوچستان پہلے ہی مختلف نوعیت کے مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے میں انتظامی تقسیم کی بحث چھیڑنے کے بجائے موجودہ صوبے کے عوام کو بنیادی حقوق، ترقیاتی مواقع، بہتر انتظامی نظام اور وسائل پر آئینی اختیار فراہم کرنے پر توجہ دینا زیادہ ضروری ہے۔
کسی بھی سیاسی رہنما کی قدر و منزلت کا تعین صرف اس کے عہدے یا سیاسی حیثیت سے نہیں ہوتا بلکہ اس بات سے ہوتا ہے کہ وہ اپنے عوام کے مسائل کو کس حد تک سمجھتا ہےان کے حقوق کے لیے کس انداز میں آواز بلند کرتا ہے اور عملی طور پر کتنی پیش رفت ممکن بناتا ہے۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی سیاسی جدوجہد کا ایک قابلِ ذکر پہلو یہ ہے کہ وہ بلوچستان کے دیرینہ مسائل کو سیاسی مکالمے اور جمہوری طریقہ کار کے ذریعے حل کرنے کی بات کرتے رہے ہیں۔ وفاقی ملازمتوں کے کوٹے کا معاملہ وزیراعظم کی سطح پر اٹھانا اور اس کے ساتھ بلوچستان کے وسیع تر سیاسی و آئینی مسائل پر 17 نکات پیش کرنا ان کی سیاسی ترجیحات میں صوبے کے اجتماعی مفادات کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ان کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بلوچستان کے مسائل کو الگ الگ واقعات کے بجائے ایک جامع سیاسی، معاشی اور آئینی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ روزگار، تعلیم، وسائل، سیاسی نمائندگی، انسانی حقوق اور صوبائی خودمختاری ایک دوسرے سے جڑے ہوئے معاملات ہیں۔ ان میں سے کسی ایک مسئلے کو نظرانداز کرکے بلوچستان میں پائیدار امن اور اعتماد کی بحالی ممکن نہیں۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے 17 نکات محض مطالبات کی فہرست نہیں بلکہ بلوچستان میں اعتماد سازی اور سیاسی استحکام کے لیے ایک ممکنہ روڈ میپ ہیں۔ وفاقی حکومت کے پاس موقع ہے کہ وہ ان نکات کو سنجیدگی سے لے، متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے ساتھ مشاورت کرے اور قابلِ عمل اقدامات کے لیے واضح لائحہ عمل ترتیب دے۔حکومت کو چاہیے کہ ان مطالبات پر پیش رفت کے لیے ایک مؤثر مشاورتی نظام تشکیل دے جس میں وفاقی حکومت، صوبائی حکومت، سیاسی جماعتوں، منتخب نمائندوں اور متعلقہ فریقوں کو شامل کیا جائے۔ ہر نکتے کے لیے عملی اقدامات، ذمہ دار اداروں اور پیش رفت کے جائزے کا طریقہ کار بھی واضح ہونا چاہیے۔یہ بھی ضروری ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اس عمل میں اپنا مثبت کردار ادا کریں تاکہ صوبے کے اجتماعی مفادات کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر آگے بڑھایا جاسکے۔ بلوچستان کو طاقت نہیں، اعتماد اور انصاف چاہیےبلوچستان کے حالات کو بہتر بنانے کے لیے محض بیانات، اعلانات اور وقتی اقدامات کافی نہیں ہوں گے۔ اس کے لیے بنیادی سیاسی، آئینی، معاشی اور انسانی مسائل کو تسلیم کرکے ان کے حل کی جانب عملی پیش رفت کرنا ہوگی۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی جانب سے وفاقی حکومت کے سامنے پیش کیے گئے 17 نکات اور بلوچستان کے وفاقی ملازمتوں کے کوٹے پر عملدرآمد کے لیے ان کی سیاسی کاوشیں ایک ایسے مکالمے کی بنیاد فراہم کرسکتی ہیں جس کا مقصد بلوچستان کے عوام کے تحفظات دور کرنا، ان کے حقوق کا تحفظ کرنا اور وفاق و صوبے کے درمیان اعتماد کو بحال کرنا ہے۔اگر وفاقی حکومت اور ریاست ان مطالبات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے آئین اور قانون کے مطابق عملدرآمد شروع کریں، لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کریں، سیاسی کارکنوں کے معاملات کو قانون کے مطابق نمٹائیں، نوجوانوں کو روزگار دیں، ساحل و وسائل میں مقامی آبادی کے حقوق تسلیم کریں، بارڈر ٹریڈ کو سہولت فراہم کریں، طلبہ کو تعلیمی مواقع دیں اور جمہوری رویوں کو فروغ دیں تو بلوچستان میں حالات کی بہتری کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔وقت کا تقاضا ہے کہ بلوچستان کو شک کی نظر سے دیکھنے کے بجائے اس کے عوام کی آواز سنی جائے، ان کے آئینی حقوق تسلیم کیے جائیں اور ان کے ساتھ اعتماد، احترام اور برابری کی بنیاد پر تعلقات استوار کیے جائیں۔یاد رکھنا چاہیے کہ پائیدار امن طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ انصاف، جمہوریت، سیاسی مفاہمت اور عوامی اعتماد سے قائم ہوتا ہے۔ بلوچستان میں امن و استحکام کا راستہ بھی انہی اصولوں سے ہوکر گزرتا ہے۔بلوچستان کے عوام خیرات نہیں، اپنا آئینی اور قانونی حق مانگتے ہیں۔ انہیں اپنے وسائل پر جائز اختیار، اپنے ووٹ کا احترام، اپنے نوجوانوں کے لیے روزگار، اپنے طلبہ کے لیے تعلیم اور اپنے شہریوں کے لیے انصاف چاہیے۔بلوچستان پاکستان کا اہم حصہ ہے اور بلوچستان کے عوام کو بھی پاکستان میں برابر کے حقوق، اختیار، عزت اور ترقی کے مواقع ملنے چاہئیں۔ یہی مضبوط وفاق، جمہوری پاکستان، قومی یکجہتی اور پائیدار امن کی اصل بنیاد ہے۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].