گزشتہ روز ایک دوست میر بہرام بلوچ سے بات چیت ہو رہی تھی اسی دوران پرانے کوئٹہ شہر کا ذکر ہوا تو میں نے ان سے کچھ پرانی باتیں کی تو ان کا کہنا تھا آپ کوئٹہ کے شاہراہوں کے بارے میں کچھ لکھیں کیونکہ میر بہرام خود بھی ایک دانشور ہیں اور دانشور میر حکیم بلوچ کے بیٹے ہے اس لئے انہیں لکھنے پڑھنے کا بہت شوق ہے لہذا میں نے سوچا آغاز پرانے بروس روڈ یعنی موجودہ جناح روڈ سے کرتے ہیں دوستو دنیا کے شہر اپنی تاریخ اپنے لوگوں اپنی روایات اور ان یادوں سے پہچانے جاتے ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود نسلوں کے ذہنوں میں زندہ رہتی ہیں کوئٹہ کی جناح روڈ بھی ایسی ہی ایک تاریخی شاہراہ ہے جس کا پرانا نام بروس روڈ تھا یہ سڑک کبھی کوئٹہ کی سیاسی سماجی تجارتی اور ادبی زندگی کا اہم مرکز ہوا کرتا تھا آج کی نسل شاید اس بات سے پوری طرح واقف نہ ہو کہ اس شاہراہ نے کتنے نامور سیاست دانوں دانشوروں تاجروں ادیبوں اور سماجی شخصیات کو اپنے دامن میں جگہ دی بروس روڈ سے جناح روڈ تک کا سفر محض ایک نام کی تبدیلی نہیں بلکہ کوئٹہ کی بدلتی ہوئی تاریخ اور تہذیب کی داستان ہے اس زمانے میں اس سڑک پر ریگل ہوٹل ڈان ہوٹل فرح ہوٹل امداد ہوٹل میٹرول ہوٹل اور فردوسی ہوٹل جیسے معروف ہوٹل موجود تھے یہ صرف کھانے پینے یا قیام کی جگہیں نہیں تھیں بلکہ سیاسی اور سماجی ملاقاتوں کے مراکز بھی تھے شام کے وقت یہاں دکانوں اور ہوٹلوں کے تھڑوں پر محفلیں سجتیں جہاں ملکی سیاست بلوچستان کے حالات عوامی مسائل اور مستقبل کے امکانات پر گفتگو ہوتی تھی اسی شاہراہ پر بولان میڈیکل ہال تھا جس کے مالک نوروز علی خان تھے بڑے بڑے سفید بال تھری پیس سوٹ پہنا یاد رہے نوروز علی خان راحت سینما کے مالک بھی تھے نواب اکبر خان بگٹی ان کے پاس بیٹھا کرتے تھے شام کو مجلس ہوتی تھی نواب صاحب گورنر بلوچستان بنے لیکن جناح روڈ کو نہیں چھوڑا کوئٹہ کے بڑے بڑے میڈیکل اسٹور بھی اسی روڈ پر تھے مثلا کوئٹہ میڈیکل اسٹور ، سلیم میڈیکل اسٹور تاج محل میوزک گوشہ ادب بک لینڈ اسٹال اور فتح خان مارکیٹ بھی اس علاقے کی شناخت کا حصہ تھے اسٹالوں کی بلوچی لباس والی دکان بھی اپنی الگ پہچان رکھتا تھا اس زمانے میں اس دکان کے بلوچی لباس کی شہرت دور دور تک تھی ایک بات اس وقت مشہور تھی کہ ہالی وڈ کی اداکارہ الزبتھ ٹیلر نے بھی ایک فلم میں اسی دکان کا بلوچی لباس پہنا تھا یہ اس دور کی مشہور روایت تھی جسے لوگ آج بھی یاد کرتے ہیں ریگل سینما میں انگریزی فلمیں دکھائی جاتی تھیں لوگ ایک ٹکٹ کے لئے کتنی سفارشیں کرتے تھے اس کے منیجر محمد یوسف رند تھے اور مالک سیٹھ نجمی تھا افضل کڑاہی والا ریگل سینما کے ساتھ والے بلڈنگ میں شام کو سیڑیو پر تکہ کباب لگاتا تھا امداد سینما بھی اسی علاقے کی ایک نمایاں شناخت تھا ریگل چوک پر ایک بار بھی موجود تھا جہاں اس زمانے کی شہری زندگی کے کئی رنگ دیکھنے کو ملتے تھے قریب ہی سندیمن اسپتال نواب دودا خان زہری کا گھر اور ڈاکٹر جعفر کا گھر پارسی ابادان کا گھر یحیی بختیار کا گھر جو پاکستان کے ممتاز قانون دان تھے اس تاریخی علاقے کی پہچان تھے جناح روڈ کی اصل رونق صرف اس کے کاروباری مراکز نہیں تھے بلکہ وہاں بیٹھنے والی شخصیات تھیں نواب اکبر خان بگٹی میر غوث بخش بزنجو سردار عطا اللہ مینگل میر عبدالرحمٰن کرد کبیر بلڈنگ میں بیٹھا کرتے تھے ملک عبدالعلی کاکڑ غلام سرور یاسینزئی سردار مصطفیٰ خان ترین اکبر خان کاکڑ جنہیں احترام سے گل کاکو کہا جاتا تھا وہ سول جج بھی رہ چکے تھے اور خان سرور خان کاکڑ جیسی شخصیات اس شاہراہ کی محفلوں کا حصہ تھیں خان عبدالصمد خان بھی کوئٹہ میڈیکل اسٹور کے قریب بیٹھا کرتے تھے سابق جج اور سیاسی رہنما اکبر خان اعتماد اخبار والوں ساتھ وہاں کھڑے یا بیٹھے دکھائی دیتے تھے ان محفلوں میں ہر شخص کے پاس اپنا تجربہ اپنا علم اور اپنی سوچ ہوتی تھی یوں محسوس ہوتا تھا جیسے جناح روڈ پر ہر تھڑا ایک غیر رسمی سیاسی درس گاہ ہو سیاسی کارکنوں کی تربیت ہوتی تھی اس دور کے لوگوں کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ بذاتِ خود ایک کتاب اور سیاسی استاد تھے آج کے نوجوانوں کو شاید یقین نہ آئے کہ کس طرح عام دکانوں کے باہر بیٹھ کر ملکی اور صوبائی سیاست پر سنجیدہ بحثیں ہوا کرتی تھیں اس زمانے کی یادوں میں یہ بات بھی شامل ہے کہ جناح روڈ پر نشہ کرنے والوں یا فضول سرگرمیوں میں ملوث لوگوں کا دکھائی دینا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا وہاں زیادہ تر وہ لوگ نظر آتے تھے جن کی اپنی ایک پہچان اور سماجی حیثیت تھی اسی جناح روڈ سے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی ایک یاد بھی وابستہ ہے وہ بلوچستان کے دورے پر یاروں گریڈ اسٹیشن کا افتتاح کرنے تشریف لائے تھے اس دوران وہ فرح ہوٹل آئے چائے پی اور وہاں سے روانہ ہوگئے طلباء کو ان کی آمد کا علم ہوا تو انہوں نے احتجاج کا پروگرام بنانے کی کوشش کی لیکن جب تک طلباء اکٹھے ہوئے بھٹو صاحب جا چکے تھے اس کی وجہ یہ تھی انہوں نے نیشنل عوامی پارٹی کی حکومت کو برخاست کر کے گورنر راج لگایا تھا اسی دوران محترمہ نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو خریداری کے لیے جناح روڈ پر اسٹالوں کی بلوچی لباس والی دکان پر آئیں اور وہاں سے بلوچی لباس خریدے طلباء میں سے بعض نے کہا کہ بھٹو صاحب تو جا چکے ہیں لیکن ان کی فیملی جناح روڈ پر موجود ہے اس لیے احتجاج کیا جائے اس موقع پر اسٹوڈنٹ لیڈر میر علی احمد کرد ایڈووکیٹ اور امان اللہ شادیزئی نے طلباء کو احتجاج سے منع کردیا ان کا موقف تھا کہ خواتین کے خلاف احتجاج کرنا ہماری روایات کے خلاف ہے چنانچہ ان کی بات کا احترام کرتے ہوئے احتجاج نہیں کیا گیا یہ واقعہ اس دور کی سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ہماری معاشرتی روایات اور خواتین کے احترام کی ایک یادگار مثال بھی ہے میر علی احمد کرد اس وقت طلباء تحریک کے رہنما تھے بعد کے زمانے میں وہ وکلا کی تحریک اور قانونی جدوجہد کے حوالے سے ایک نمایاں نام بنے اور پاکستان بار کونسل کے صدر بھی رہے مگر جناح روڈ کی اس یاد میں ان کا کردار ایک ایسے طالب علم رہنما کا ہے جس نے سیاسی اختلاف کے باوجود اپنی معاشرتی روایت کو مقدم رکھا آج جناح روڈ پر بہت کچھ بدل چکا ہے پرانے ہوٹلوں دکانوں سینماؤں اور محفلوں میں سے کئی نشانیاں ماضی کا حصہ بن گئی ہیں نئی عمارتیں اور کاروبار اپنی جگہ لیکن وہ ماحول وہ علمی گفتگو وہ سیاسی برداشت اور وہ باہمی احترام اب پہلے جیسا دکھائی نہیں دیتا یہ کالم محض ماضی کی تعریف یا حال سے شکایت نہیں بلکہ نئی نسل کے لیے ایک تاریخی یادداشت ہے جن لوگوں نے اس دور کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہر کی تاریخ آنے والی نسلوں تک پہنچائیں کیونکہ جس قوم کے نوجوان اپنے شہر کے ماضی اپنے بزرگوں اور اپنی تہذیبی روایات سے واقف نہ ہوں وہ اپنے حال کو سمجھنے اور مستقبل کو سنوارنے میں بھی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں بروس روڈ سے جناح روڈ تک کا یہ سفر کوئٹہ کی اجتماعی یادداشت کا حصہ ہے ہماری خواہش ہے کہ کوئٹہ کی تاریخ کو صرف کتابوں میں نہیں بلکہ نئی نسل کے شعور میں بھی زندہ رکھا جائے یہ شہر صرف آج کا کوئٹہ نہیں اس کے پیچھے ایک طویل تاریخ بے شمار کردار اور ایسی یادیں ہیں جنہیں محفوظ رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].