8 اگست 2016 کوئٹہ کے لئے ایک ایسا زخم ہے جو نو برس گزرنے کے باوجود آج بھی تازہ ہے یہ وہ دن تھا جب دہشت گردی نے صرف انسانوں کو نہیں مارا تھا بلکہ قانون انصاف آئین اور ریاست کے ایک پورے ستون کو نشانہ بنایا تھا
صبح بلال انور کاسی ایڈووکیٹ صدر بلوچستان بار ایسوسی ایشن کو منو جان روڈ پر فائرنگ کرکے شہید کیا گیا ان کا جسدِ خاکی سول اسپتال کوئٹہ لایا گیا اپنے ساتھی اپنے صدر اور اپنے بھائی کے آخری دیدار کے لیے وکلاء سول اسپتال پہنچنے لگے کسی کو کیا خبر تھی کہ وہ اپنے ساتھی کی میت پر افسوس کرنے نہیں بلکہ تاریخ کا حصہ بننے جا رہے ہیں
اور پھر ایک دھماکہ ہوا ایک لمحے میں چیخیں بلند ہوئیں شیشے ٹوٹے جسم بکھرے سفید کالے کوٹ خون میں رنگ گئے اور کوئٹہ کی فضا میں ایسا ماتم پھیل گیا جس کی بازگشت آج بھی سنائی دیتی ہے اس حملے میں درجنوں افراد شہید ہوئے اور وکلاء کی ایک بڑی تعداد ہمیشہ کے لیے ہم سے جدا ہوگئی سرکاری و عدالتی ریکارڈ اور بعد کے حوالوں میں 56 وکلاء کی شہادت بیان ہوئی جبکہ تقریباً 92 وکلاء زخمی ہوئے
یہ کوئی معمولی نقصان نہیں تھا یہ بلوچستان کی قانونی تاریخ پر کاری ضرب تھی یہ ایسے وکلاء تھے جو برسوں عدالتوں میں کھڑے ہوکر لوگوں کے حقوق کی جنگ لڑتے رہے کسی نے غریب کا مقدمہ مفت لڑا تو کوئی کئی خاندان کا وسیلہ تھا کسی نے آئین کی بالادستی کے لیے آواز اٹھائی کسی نے وکلاء تحریک میں کردار ادا کیا مثلا باز محمد کاکڑ جس نے ہمیشہ ظلم و نا انصافی کے خلاف آواز بلند کی کسی نے نوجوان وکلاء کی تربیت کی اور کسی نے عدالت کو اپنے مؤکل کے لیے آخری امید سمجھا ان میں سینئر وکلاء بھی تھے نوجوان وکلاء بھی سیاسی و سماجی شعور رکھنے والے لوگ بھی اور وہ لوگ بھی جنہوں نے اپنی زندگی قانون کے نام کردی تھی جیسے قاہر شاہ نورزئی یہ صرف 56 جنازے نہیں تھے یہ 56 خاندان تھے 56 ماؤں کی دعائیں تھیں 56 بیواؤں کے سہاگ تھے سینکڑوں بچوں کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ گیا بہنوں کے بھائی چلے گئے بوڑھے والدین اپنے بیٹوں کے جنازے دیکھنے پر مجبور ہوئے اور سب سے بڑھ کر بلوچستان کی قانونی برادری نے ایک ایسی انسانی اور علمی کمی محسوس کی جسے کسی سرکاری نوٹیفکیشن کسی مالی پیکیج اور کسی عہدے سے پورا نہیں کیا جاسکتا ایک وقت میں کوئٹہ کی بار میں وکلاء کی ایک پوری نسل موجود تھی 8 اگست نے اس نسل کے ایک بڑے حصے کو ہم سے چھین لیا بعد کے تجزیوں میں بھی اسے قانونی برادری کی ایسی تباہی قرار دیا گیا جس کا خلا کئی دہائیوں تک محسوس کیا جاسکتا ہے
شہید بلال انور کاسی سے شہید فیض اللہ تک اس سانحے میں جن شہید وکلاء نام درج ہیں وہ ہمارے لیے محض نام نہیں بلکہ بلوچستان کی تاریخ کے روشن باب ہیں
بلال انور کاسی باز محمد کاکڑ چاکر رند قاہر شاہ نورزئی عدنان کاسی داؤد کاسی گل زرین کاسی عسکر خان اچکزئی سنگت جمالدینی جمال عبدالناصر قاضی بشیر غلام محمد جمیل الرحمن قاضی ملک وزیر کاسی قیصر شیرانی خان محمد عمران شیخ رحمت خروٹائی میر محمود احمد لہڑی محمد سلیم بٹ بشیر احمد زہری سید غنی جان آغا نصیر لانگو محب اللہ نورالدین رخشانی منظر صدیقی نوراللہ کاکڑ منیر احمد مینگل نقیب اللہ ترین محمد ایوب سدو زئی عطا اللہ کاکڑ حفیظ اللہ مینگل حفیظ اللہ خان مندوخیل غنی مشوانی محمد اشرف سلیہری بشیر احمد کاکڑ عین الدین ناصر سید ضیاء الدین غلام حیدر کاکڑ ایمل خان وتنیار عبداللہ اچکزئی محمد علی ستکزئی سرفراز شیخ عبدالنصیر کاکڑ وقاص خان جدون تیمور شاہ کاکڑ آرتھر وکٹر شیر گل ڈوی، فیروز خان صابر علی، غلام فاروق بدینی امان اللہ لانگو فیض اللہ خان سرگڑہ غوث الدین اور عبدالرشید
یہ نام پڑھتے ہوئے شاید ہمیں اندازہ نہ ہو کہ ان میں سے ہر نام کے پیچھے ایک مکمل دنیا آباد تھی ہر نام کے پیچھے ایک گھر تھا ایک ماں تھی ایک باپ تھا ایک بیوی تھی بچے تھے دوست تھے شاگرد تھے لوگوں کا وسیلہ تھے کئی لوگوں کی کفالت کا سہارہ تھے اور ایسے بے شمار لوگ تھے جو عدالت کے دروازے پر ان وکلاء کو اپنا آخری سہارا سمجھتے تھے باز محمد کاکڑ قانون کی جنگ کا سپاہی تھا وہ صرف ایک وکیل نہیں تھا وہ بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر تھا اور وکلاء تحریک میں بھی نمایاں کردار ادا کرچکے تھا قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کے لیے ان کی جدوجہد ان کی زندگی کا اہم حصہ تھی آج سوال یہ ہے کہ اگر قانون کے محافظ ہی محفوظ نہ رہیں تو عام آدمی عدالت کے دروازے پر کس امید کے ساتھ جائے قاہر شاہ ایک ایسا نام جو ایڈووکیٹ جنرل کے منصب کے لیے زیرِ غور تھا قاہر شاہ کی قابلیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کا نام بلوچستان کے ایڈووکیٹ جنرل کے منصب کے لیے زیرِ غور تھا وہ کوئٹہ میونسپل کارپوریشن کے قانونی مشیر بھی رہ چکے تھے ایک شخص جو بلوچستان کے اعلیٰ قانونی منصب تک پہنچ سکتا تھا وہ چند لمحوں میں دہشت گردی کی نذر ہوگیا۔
سوچیے بلوچستان نے صرف ایک انسان نہیں کھویا ایک ممکنہ مستقبل کھو دیا داؤد کاسی چاکر رند عدنان کاسی اور دیگر داؤد کاسی سمیت کئی نوجوان اور تجربہ کار وکلاء اس حملے کا نشانہ بنے چاکر رند نے قانون کو محض پیشہ نہیں بلکہ لوگوں کی خدمت کا ذریعہ سمجھا عدنان کاسی نے قانونی تعلیم اور وکالت میں اپنی شناخت بنائی یہ سب اپنی اپنی جگہ ایک مکمل داستان تھے مگر دہشت گردوں نے کسی کی عمر نہیں دیکھی کسی کی قابلیت نہیں دیکھی کسی کے بچوں کا مستقبل نہیں دیکھا اس نے صرف سفید کالے کوٹ دیکھے خود کش دھماکہ سے اپنے کو اڑا دیا
2016ء میں سپریم کورٹ نے اس سانحے کا ازخود نوٹس لیا اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں انکوائری کمیشن قائم ہوا کمیشن نے سیکیورٹی اور حکومتی انتظامات پر سخت سوالات اٹھائے بعد میں عدالتی کارروائی میں بھی اس سانحے کو حکمرانی اور سیکیورٹی کی سنگین ناکامیوں کے تناظر میں دیکھا گیا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ایک اور سوال زیادہ گہرا ہوتا گیا
کیا صرف شہداء کے خاندانوں کو معاوضہ دے دینا انصاف ہے پیسہ ایک گھر کا چولہا جلا سکتا ہے مگر باپ واپس نہیں لا سکتا ملازمت کسی یتیم بچے کی فیس ادا کرسکتی ہے مگر اس کے سر پر ہاتھ نہیں رکھ سکتی ایک یادگار بنائی جاسکتی ہے مگر ایک شہید وکیل کی جگہ نہیں لی جاسکتی
8 اگست ہمیں صرف رلانے کے لیے نہیں آیا
8 اگست ہمیں یاد دلانے آتا ہے اور یہ قیمت بلوچستان کی اجتماعی یادداشت میں ہمیشہ لکھی رہے گی آج کے وکیلوں کے لیے شہداء کا پیغام شاید 8 اگست کے شہداء ہم سے صرف ایک بات کہنا چاہتے ہیں ہمیں یاد رکھنے کا بہترین طریقہ یہ نہیں کہ ہر سال ہماری تصویروں پر پھول چڑھاؤ بلکہ یہ ہے کہ عدالت میں سچ کے ساتھ کھڑے رہو کمزور کا مقدمہ لڑو آئین کی حفاظت کرو اور قانون کو طاقتور اور کمزور دونوں کے لیے برابر رکھو اگر 8 اگست کے شہداء کی قربانی کے بعد بھی قانون طاقتور کے سامنے جھک جائے غریب عدالت میں انصاف خریدنے پر مجبور ہو اگر قاتل برسوں آزاد پھرتے رہیں اگر دہشت گردی کے سہولت کار قانون کے شکنجے سے بچ نکلیں تو پھر سوال صرف دہشت گردوں سے نہیں بلکہ پورے نظام سے ہوگا کوئٹہ کے سول اسپتال کی وہ جگہ آج بھی گواہ ہے وہاں کبھی چیخیں تھیں وہاں خون تھا وہاں کالے کوٹ بکھرے ہوئے تھے
وہاں موبائل فون تھے جوتے اور انسانی جسم پڑے تھے
وہاں بلوچستان کے قانون دانوں کی ایک پوری نسل خون میں نہا گئی تھی اور شاید آج بھی اس جگہ کی خاموش دیواریں یہ سوال کرتی ہیں کیا ہمارے خون سے انصاف کا چراغ روشن ہوا 8 اگست کے شہداء کا سب سے بڑا انتقام یہی ہوگا کہ بلوچستان میں قانون مضبوط ہو عدالتیں آزاد ہوں وکیل محفوظ ہوں صحافی محفوظ ہوں عام شہری محفوظ ہو اور دہشت گردی کے سامنے ریاست کبھی بے بس دکھائی نہ دے
کیونکہ دہشت گرد صرف انسان نہیں مارتا وہ معاشرے کا اعتماد مارتا ہے وہ مستقبل مارتا ہے وہ قانون پر یقین مارتا ہے اور 8 اگست 2016ء کو کوئٹہ میں دہشت گردی نے بلوچستان کے قانون پر یقین کو بھی لہولہان کیا تھا آج جب ہم شہید وکلاء کو یاد کرتے ہیں تو سر جھک جاتا ہے آنکھ نم ہوجاتی ہے
دل پوچھتا ہے کیا دنیا میں کوئی ایسا پیمانہ ہے جس سے ایک باپ کی کمی ناپی جاسکے کیا کوئی خزانہ ایسا ہے جس سے ایک شہید وکیل کی جگہ خریدی جاسکے کیا کوئی معاوضہ ایسا ہے جو ایک یتیم بچے کو اس کا باپ واپس کرسکے؟
نہیں اس لیے 8 اگست کا اصل تقاضا صرف تعزیت نہیں انصاف ہے صرف یاد نہیں احتساب ہے صرف پھول نہیں قانون کی حکمرانی ہے اور صرف تقریریں نہیں ایسا نظام ہے جس میں کسی دوسرے 8 اگست کی گنجائش نہ ہو آج ہم ان تمام شہید وکلاء کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنی جانیں دے کر یہ ثابت کیا کہ قانون کا راستہ آسان نہیں مگر اس راستے پر چلنے والے ہی معاشرے کو انصاف کی منزل تک پہنچاتے ہیں شہید وکلاء زندہ ہیں ان کے نام بلوچستان کی تاریخ میں لکھے جاچکے ہیں اور تاریخ کا فیصلہ ہے جسم مر جاتے ہیں مگر اصول نہیں مرتے 8 اگست کے شہداء کو سلام اللہ تعالیٰ تمام شہداء کے درجات بلند فرمائے ان کے لواحقین کو صبر دے اور بلوچستان کو امن انصاف اور خوشحالی عطا فرمائے آمین
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].