بلوچستان ہائیکورٹ نے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی آئینی ترمیم سے متعلق الیکشن کمیشن کا حکم معطل کردیا

بلوچستان ہائیکورٹ نے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی آئینی ترمیم سے متعلق الیکشن کمیشن کا حکم معطل کردیا
کوئٹہ(دی باغوان) بلوچستان ہائیکورٹ نے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کی جانب سے دائر آئینی درخواست پر الیکشن کمیشن آف پاکستان کے 2 جولائی 2026 کے حکم اور 8 جولائی کے شوکاز نوٹس کی کارروائی آئندہ سماعت تک معطل کردی۔یہ حکم بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل بینچ نے جاری کیا۔ بلوچستان ہائیکورٹ میں پی کے میپ کے جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت درخواست دائر کی گئی تھی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ الیکشن کمیشن کا 2 جولائی کا حکم اور 8 جولائی کا شوکاز نوٹس غیر قانونی، اختیارات سے تجاوز اور بغیر قانونی اختیار کے جاری کیا گیا، لہٰذا انہیں کالعدم قرار دیا جائے۔ درخواست میں عدالت سے یہ بھی استدعا کی گئی تھی کہ الیکشن کمیشن پارٹی کی جانب سے 30 اپریل 2026 کو جمع کرائی گئی آئینی ترمیم کو قانون کے مطابق پہلے زیر غور لائے اور فیصلہ کرے، جبکہ پارٹی کو مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے، یا اسے اپنی رجسٹرڈ آئین کے تحت انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کے لیے مزید مہلت دی جائے۔ عدالت نے درخواست پر الیکشن کمیشن کو صوبائی الیکشن کمشنر بلوچستان کے ذریعے پری ایڈمیشن نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا۔ عدالتی حکم کے مطابق 2 جولائی کے متنازع حکم اور 8 جولائی کے شوکاز نوٹس پر عملدرآمد آئندہ سماعت تک معطل رہے گا۔ عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت 26 اگست 2026 کو مقرر کرنے کی ہدایت کی ہے۔

Comments 0

Sort by:

Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].

Login to post a comment.