میں اس موضوع پر پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ اگر بلوچستان میں مؤثر انتظامی یونٹس قائم کیے جائیں تو شاید پہلی مرتبہ ہم بلوچستان کے مسئلے کو صرف سیاست قومیت یا وسائل کی تقسیم کے زاویے سے نہیں بلکہ انتظام ترقی اور عوامی سہولت کے زاویے سے دیکھ سکیں گے میری یہ تجویز کسی لسانی یا قومی بنیاد پر صوبے کو تقسیم کرنے کی نہیں میں خود لسانی بنیادوں پر صوبوں کی تقسیم کا حامی نہیں رہا لیکن انتظامی تقسیم کو بلوچستان کی ضرورت سمجھتا ہوں فرق بہت واضح ہے لسانی تقسیم لوگوں کو ایک دوسرے سے دور کر سکتی ہے جبکہ انتظامی تقسیم حکومت کو عوام کے قریب لا سکتی ہے دنیا میں جدید ریاستیں اسی اصول پر آگے بڑھی ہیں کہ اختیارات وسائل اور فیصلے جہاں تک ممکن ہو عوام کے قریب ہوں OECD کے مطابق مؤثر اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی سیاسی انتظامی اور مالی تینوں پہلوؤں پر مشتمل ہوتی ہے اور دنیا کے متعدد ترقی یافتہ و ترقی پذیر ممالک میں اس کے مختلف ماڈل رائج ہیں عالمی بینک بھی اس بات پر زور دیتا ہے کہ تعلیم صحت پانی انفراسٹرکچر اور مقامی ترقی جیسے معاملات میں مضبوط مقامی ادارے اہم کردار ادا کرتے ہیں سوال یہ ہے کہ بلوچستان اتنا وسیع رقبہ منتشر آبادی اور دشوار جغرافیہ رکھنے کے باوجود ہم آج بھی ایک ہی انتظامی مرکز سے پورے صوبے کو چلانے کی کوشش کیوں کر رہے ہیں ایک وزیر پورا بلوچستان
میں ایک مثال دیتا ہوں گر ژوب کا کوئی ایم پی اے صوبائی وزیر تعلیم بن جاتا ہے تو کیا یہ توقع کر سکتے ہیں کہ وہ گوادر خضدار تربت پنجگور یا نصیرآباد کے دور دراز اسکولوں اور کالجوں کے مسائل کو اسی گہرائی سے سمجھ سکے گا جس طرح اپنے علاقے کے تعلیمی مسائل کو سمجھتا ہے
یہ کسی فرد کی اہلیت کا سوال نہیں انتظامی فاصلے کا سوال ہے اسی طرح اگر صحت کا پورے صوبے کے لیے ایک مرکزی انتظامی ڈھانچہ ہو اور فیصلہ سازی زیادہ تر کوئٹہ میں بیٹھے ہو تو دور دراز اضلاع کے بنیادی مراکز صحت ضلعی اسپتالوں ڈاکٹروں کی حاضری ادویات اور طبی سہولتوں کی حقیقی صورت حال مرکزی دفتر تک کس رفتار اور کس صداقت کے ساتھ پہنچے گی جو آج تک نہیں پہنچی یہی مسئلہ تقریباً ہر بڑے محکمے میں نظر آتا ہے دفتر کوئٹہ میں ذمہ داری پورے بلوچستان کی ہم نے ماضی میں یہ پالیسی بھی دیکھی کہ محکمہ بی اینڈ آر میں چیف انجینئرز کے زون قائم کیے گئے تاکہ کام کی نگرانی متعلقہ زونز میں ہو اگر افسر اپنے زون میں موجود ہی نہ ہو اور زیادہ وقت کوئٹہ کے مرکزی دفتر میں گزرے تو زون بنانے کا مقصد ہی فیل ہو جاتا ہے اسی طرح صحت تعلیم آب پاشی مواصلات اور دوسرے محکموں کے اعلیٰ افسران اگر فائلوں اور اجلاسوں تک محدود رہیں اور سال میں مناسب تعداد میں اپنے متعلقہ اضلاع کا دورہ بھی نہ کریں تو انہیں زمینی حقیقت کیسے معلوم ہوگی اور مسائل کیسے حل ہو سکتے ہیں میرے پاس عوام اور سرکاری نظام کے حوالے سے جو مشاہدات اور شکایات آتی رہی ہیں ان میں ایک بڑا مسئلہ یہی ہے کہ نگرانی کوئٹہ کے دفتر اور فائلوں میں کام میدان میں کچھ بھی نہیں اور جواب دہی درمیان میں گم ہو جاتی ہے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سڑک کاغذ پر مکمل اسکول فائلوں میں فعال اسپتال رپورٹ میں آفتاب اور بحال اور منصوبہ بجٹ اور بریفنگ میں کامیاب دکھائی دیتے ہیںن مگر جب عوام خود اس سہولت کو تلاش کرتے ہیں تو تصویر مختلف نظر آتی ہے انتظامی یونٹ کا اصل فائدہ کیا ہوگا اگر بلوچستان کو مناسب انتظامی یونٹس میں تقسیم کیا جائے اور ہر یونٹ کو واضح اختیارات بجٹ اور جواب دہی دی جائے تو سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ حکومت کا چہرہ عوام کے سامنے ہوگا ایک انتظامی یونٹ کا سربراہ یہ نہیں کہہ سکے گا کہ مسئلہ سیکریٹریٹ میں بیٹھے کسی دوسرے افسر کے پاس ہے اس کے سامنے اپنا علاقہ ہوگا اپنے اسکول ہوں گے اپنے اسپتال ہوں گے اپنی سڑکیں ہوں گی اپنی پولیس ہوگی اور اپنے عوام ہوں گے پھر کامیابی اور ناکامی دونوں کا حساب بھی اسی سے لیا جاسکے گا یہی جواب دہی کسی بھی انتظامی اصلاح کی بنیاد ہے OECD کے مطابق decentralisation کا ایک اہم پہلو یہی ہے کہ فیصلہ سازی اور جواب دہی کو مقامی سطح کے قریب لایا جائے تاہم اس کے لیے اختیارات کے ساتھ مناسب مالی وسائل اور واضح ذمہ داریاں بھی ضروری ہیں وسائل بھی نیچے جائیں صرف اختیارات نہیں بلوچستان کا ایک بنیادی مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم وفاق سے اپنا حصہ مانگتے ہیں لیکن صوبے کے اندر یہ سوال کم پوچھتے ہیں کہ یہ حصہ اضلاع اور مقامی آبادی تک کس فارمولے کے تحت پہنچ رہا ہے ڈاکٹر مالک صاحب جب وزیر اعلی تھے تو پتہ چلا ضلعوں حکومت کے لئے ایک روپے بھی نہیں رکھا جب تمام بلوچستان کے میئر صاحبان نے احتجاج کیا تو 10 / 10 کروڑ کے فنڈ دیئے گئے 2010 کے بعد 18ویں آئینی ترمیم اور ساتویں این ایف سی ایوارڈ نے صوبوں کے مالی وسائل اور ذمہ داریوں میں اہم تبدیلیاں کیں لیکن 2026 کی عالمی بینک کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں وسائل کی صوبوں سے مقامی سطح تک منتقلی اور سروس ڈلیوری کے درمیان اب بھی نمایاں خلا موجود ہے رپورٹ کے مطابق 2024 تک کل سرکاری اخراجات میں مقامی حکومتوں کا حصہ 5 فیصد سے بھی کم رہ گیا تھا اگر وفاق سے بلوچستان کو وسائل ملتے ہیں تو بلوچستان کے ہر ضلع کو اس کا منصفانہ اور شفاف حصہ کیوں نہیں ملتا یہ بھی ایک سوال بنتا ہے میری رائے میں اس کے لیے ایک مؤثر صوبائی مالیاتی کمیشن یا اسی نوعیت کا شفاف قانون کے تحت قائم مالیاتی نظام ضروری ہے جس میں آبادی کے ساتھ پسماندگی رقبہ غربت ضروریات اور کارکردگی جیسے عوامل بھی شامل ہوں بلوچستان میں ماضی میں صوبائی مالیاتی کمیشن کے ایوارڈز کا سلسلہ رہا ہے مگر بعد کے برسوں میں یہ عمل باقاعدگی سے جاری نہیں رہ سکا PIDE کی ایک حالیہ رپورٹ بھی بلوچستان کے صوبوں میں PFC Awards کے تسلسل کے مسئلے کی نشاندہی کرتی ہے اگر وسائل کی تقسیم واضح فارمولے کے تحت ہو تو کوئی وزیر اعلیٰ سینئر وزیر یا بااثر سیاسی شخصیت اپنے آبائی علاقے کو غیر معمولی وسائل منتقل کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہے گی بلوچستان میں ہمیشہ سے سیاست پارٹیوں کی شکایت رہی ہے کہ وزیر یا سینئر صوبائی وزیر یا بااثر اثر شخصیات زیادہ فنڈ اپنے حلقہ انتخاب میں ٹرانسفر کرتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ کمیشن ملے یہ الزام تراشی نہیں بلکے زمینی حقائق ہیں
فنڈ وہاں منتقل ہونا چاہئے جہاں فارمولا اجازت دے گا ضرورت ثابت ہوگی اور کارکردگی کا معیار پورا ہو تب ایک ضلع کے عوام کو دوسرے ضلع کے مقابلے میں محرومی کا احساس کم ہوگا آج اگر ایک جگہ سڑکیں بنتی ہیں کالجز بنتے ہیں اسپتال بنتے ہیں اور دوسری جگہ بنیادی سہولتیں بھی موجود نہیں ہوتیں تو محرومی صرف معاشی نہیں رہتی وہ آہستہ آہستہ سیاسی اور سماجی شکایت بن جاتی ہے بلوچستان میں ہمارے پشتون بھائیوں کی طرف سے ایک شکایت بارہا سامنے آتی رہی ہے کہ انہیں ان کا مناسب حق نہیں ملتا دوسری طرف بلوچ علاقوں میں بھی یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ بعض مواقع پر ملازمتوں اور وسائل کی تقسیم میں ان کے ساتھ انصاف نہیں ہوا ہم کب تک ان شکایات کو سیاسی تقریروں میں دہراتے رہیں گے اگر انتظامی یونٹس مضبوط ہوں مقامی حکومتیں بااختیار ہوں ملازمتوں کا مقابلہ شفاف طریقے سے متعلقہ انتظامی یونٹ کی ضروریات کے مطابق ہو فنڈز کا فارمولہ واضح ہو اور ہر علاقے کے لیے ترقیاتی اہداف مقرر ہوں تو گلے شکووں کی بڑی وجہ خود بخود کم ہوسکتی ہے میری نظر میں یہ لسانی مسئلے کا حل نہیں بلکہ انتظامی انصاف کا راستہ ہے ایک مؤثر انتظامی ماڈل میں ہر یونٹ کے لیے اپنی سطح کی مضبوط انتظامیہ پولیس کمانڈ مالیاتی دفتر آڈٹ کا نظام تعلیمی امتحانات کا انتظام صحت کی نگرانی اور ترقیاتی منصوبہ بندی کا ڈھانچہ ہونا چاہیے یہ ضروری نہیں کہ ہر یونٹ میں وفاقی یا صوبائی سطح کے تمام اداروں کی لفظ بہ لفظ نقل کر دی جائے اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ فیصلہ فنڈ عمل درآمد اور نگرانی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوں مثلاً ایک استاد اگر اپنے ضلع میں تعینات ہے تو اس کی حاضری اور کارکردگی کی نگرانی بھی اسی علاقے میں ہو ایک انجینئر کے ذمے علاقے کی سڑکیں ہیں تو اس کی کارکردگی کا جائزہ بھی اسی علاقے کے منصوبوں سے لیا جائے اگر محکمہ صحت کا ایک مخصوص انتظامی یونٹ ہے تو اسے اس آفسیر کو معلوم ہو کہ اس یونٹ کے کتنے مراکز صحت فعال ہیں اور کتنے ڈاکٹر حاضر ہیں
پھر کوئی افسر یہ نہیں کہہ سکے گا کہ مجھے معلوم نہیں یہ میرے دائرہ اختیار میں نہیں ہماری یونیورسٹیوں کا مسئلہ بھی صرف عمارت یا بجٹ کا مسئلہ نہیں معیار تحقیق استاد کی کارکردگی اور طلبہ کے مواقع بھی اتنے ہی اہم ہیں اگر اعلیٰ تعلیم چند مراکز تک محدود رہے گی تو پورے بلوچستان کے نوجوان ایک ہی دروازے کی طرف دیکھتے رہتے ہیں
لیکن اگر مختلف انتظامی یونٹس میں ضرورت معیار اور آبادی کے مطابق اعلیٰ تعلیمی ادارے قائم ہوں ان کے درمیان علمی مقابلہ ہو اساتذہ کی کارکردگی جانچی جائے اور تحقیق کو وسائل ملیں تو مقابلے کا ماحول پیدا ہوگا دنیا کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ علاقائی اور مقامی حکومتیں تعلیم صحت ٹرانسپورٹ پانی انفراسٹرکچر اور مقامی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں لیکن اس کے لیے واضح اختیارات اور مالی وسائل دینا بھی ضروری میں یہ نہیں کہتا کہ انتظامی یونٹس بنانا ہر مسئلے کا جادوئی حل ہے
اس کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں نئے دفاتر بن سکتے ہیں افسران اور عملے کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے اداروں کے درمیان اختیارات کا ٹکراؤ پیدا ہوسکتا ہے اور اگر یونٹس بہت چھوٹے بنا دیے جائیں تو انتظامی صلاحیت کم بھی ہوسکتی ہے دنیا میں decentralisation کے تجربات یہ بھی بتاتے ہیں کہ اختیارات کی منتقلی اگر بغیر مالی وسائل واضح ذمہ داریوں اور مضبوط نگرانی کے کی جائے تو فائدے کے بجائے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں OECD بھی اسی لیے decentralisation میں اختیارات وسائل اور ذمہ داریوں کے درمیان توازن کو بنیادی شرط قرار دیتا ہے
یہ پورا نظام قانون کے تحت شفاف طریقے سے اور مرحلہ وار بننا چاہیے ایسا نا ہو جیسے ڈسٹرکٹ اور ڈویژنز بغیر تیاری کے بنائیں گئے کئی ضلعوں میں آج بھی ضلعی انتظامیاں کے دفاتر موجود نہیں ہیں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اختیار کے ساتھ احتساب بھی ہونا چاہیے ہمارا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم ہر نئی تجویز کو پہلے شک کی نظر سے دیکھتے ہیں
اس کی ایک وجہ بھی ہے ہمارے حکمرانوں نے عوام سے اتنے جھوٹے وعدے کیے ہیں اتنے دعوے کیے اور اتنی بار مایوس کیا کہ اب کوئی اچھی بات بھی سامنے آئے تو عوام فوراً سوچتے ہیں کہ اس کے پیچھے کیا مقصد کارفرما ہے یہ اعتماد کا بحران ہے اور اس کا علاج مزید تقریریں نہیں بلکہ نتائج ہونے چاہئے ہمیں منفی سوچ چھوڑ کر مثبت سوچ ضرور اپنانی چاہیے میں آج یہ سوال صرف سیاست دانوں سے نہیں بلکہ بلوچستان کے تمام فیصلہ سازوں مقتدر حلقوں بیوروکریسی دانشوروں اساتذہ کاروباری طبقے اور عام شہریوں کے سامنے رکھتا ہوں کیا بلوچستان کو ایک ایسے انتظامی ماڈل کی ضرورت نہیں جس میں حکومت عوام کے قریب ہو فنڈز کا طریقے کار واضح ہو افسر اپنے علاقے میں موجود ہو ترقیاتی منصوبے کی نگرانی مقامی سطح پر ہو اور ہر علاقے کے عوام کو اپنی حکومت تک رسائی حاصل ہو
ہم وفاق سے اپنے حقوق کا مطالبہ ضرور کریں یہ ہمارا آئینی حق ہے مگر ہمیں اپنے صوبے کے اندر بھی انصاف کرنا ہوگا
اگر ہم چاہتے ہیں کہ وفاق بلوچستان کو اس کا حق دے تو ہمیں بھی بلوچستان کے ہر ضلع ہر علاقے اور ہر شہری کو اس کا حق دینا ہوگا بلوچستان کی ترقی صرف زیادہ پیسوں سے نہیں ہوگی زیادہ مؤثر طریقے سے پیسہ خرچ کرنے سے ہوگی
امن صرف زیادہ فورسز سے نہیں آئے گا مضبوط انتظام فوری انصاف اور عوامی اعتماد سے بھی آئے گا
اور سب سے بڑھ کر بلوچستان کا مستقبل کوئٹہ کی چند عمارتوں میں بند نہیں ہوسکتا آج اگر تحقیقات کریں تو امن امان بنیادی سہولیات کی کمی اور اچھے تعلیمی اور صحت کے مراکز نہ ہونے کی وجہ سے 90 فیصد دوسرے ضلعوں کے عوام کوئٹہ منتقل ہو چکے ہیں بلوچستان کا مستقبل بلوچستان کے ہر علاقے تک اختیار وسائل اور ترقی پہنچانے
میرا مقصد کسی قوم کو دوسرے سے جدا کرنا نہیں ہر علاقے کو اس کا حق دینا ہے دنیا آگے بڑھ گئی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم صرف یہ نہ پوچھیں کہ دنیا ہم سے آگے کیوں نکل گئی؛ بلکہ یہ بھی سوچیں کہ وہاں ایسا کیا ہوا جو ہم نے نہیں کیا
شاید جواب ہمارے سامنے ہی ہے انہوں نے اختیار کو مرکزیت میں قید نہیں رکھا اسے عوام تک پہنچایا اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم مزید کتنی دیر ایک ہی لکیر پیٹتے رہیں گے
اس موقف پے اپنی رائے ضرور دیں اور مثبت ذہن سے سوچ کر دیں سیاستدانوں کے موقف کے فاکوزن نہ کریں بلکہ بلوچستان کے آنے والے نسلوں کے بارے میں سوچیں
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].