تہران(بی بی سی)ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ثالثوں کے ذریعے سفارتی رابطے جاری ہیں، تاہم ایران جنگی حالت میں ہے اور کسی بھی نئی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق منگل کو تہران میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’قطر کی ثالثی میں ایران کی جانب سے پیش کردہ سات روزہ منصوبہ زیرِ بحث ہے اور تہران کو اس پر امریکہ کا جواب بھی موصول ہوا ہے۔‘ ان کے مطابق اگر ایران کے مطالبات تسلیم کر لیے جائیں تو دونوں ملک سفارتی مفاہمت تک پہنچ سکتے ہیں۔
غریب آبادی نے کہا کہ ’ایران نے نہ تو جنگ شروع کی اور نہ ہی اس کا خواہاں تھا، بلکہ یہ جنگ اس پر مسلط کی گئی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر امریکہ سفارتی حل چاہتا ہے تو اسے ایران کی واضح کردہ شرائط پر عمل کرنا ہوگا۔‘
جزیرہ قشم پر پیر کی شب پیش آنے والے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ ’ایران کے خلاف فوجی جارحیت تاحال جاری ہے، اس لیے ملک کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ یہ حق اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک فوجی کارروائیاں مکمل اور مستقل طور پر بند نہیں ہو جاتیں۔‘
خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق غریب آبادی نے کہا کہ ’امریکہ پر عدم اعتماد کے باوجود ایران مذاکرات جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے، تاہم اگر واشنگٹن نے کوئی دوسرا راستہ اختیار کیا تو تہران اپنے دفاع میں بھرپور جواب دے گا۔‘
امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’ایران اپنی خارجہ پالیسی کو دوسرے ملکوں کے انتخابات سے نہیں جوڑتا اور نہ ہی ان کے نتائج کا انتظار کر رہا ہے۔‘
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].